شب عروسی

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - شادی کی رات، شادی کی پہلی رات، شب زفاف۔ "میں تیری شکل و صورت پر شیدا .ہوں، شبِ عروسی میں تجھے اُٹھا لایا"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٣ )

اشتقاق

فارسی اسم مونث 'شب' کے ساتھ کسرہ صفت لگا کر عربی اسم 'عروس' سے 'عروسی (عروس+ی) (لاحقہ نسبت)' ملنے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٠١ء کو "الف لیلہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شادی کی رات، شادی کی پہلی رات، شب زفاف۔ "میں تیری شکل و صورت پر شیدا .ہوں، شبِ عروسی میں تجھے اُٹھا لایا"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٣ )

جنس: مؤنث